Commandments and Significance of Veil in Modern Day: A Research Review
Hafiz Muhammad Abid Noman
Visiting Lecturer, GCUF
Email: nomeyy87@yahoo.com https://alasr.com.pk/ojs3308/index.php/alasar/article/view/120
Abstract:
Hijab has been a matter of discussion amongst Muslims for ages, ulama supporting with concrete proofs, however the times we live in, the Ladies are more inclined towards wearing Hijab rather than going for veil. Scholars discuss about the Hijab of the lady but not for man. Though in the Holy Quran, men’s hijab has been mentioned first. Some extremist took the narrations of veil in the extream way. On the other hand scholars have tried to reconcile between both viewpoints by offering choice to women whether they like to go for Hijab or Niqab some like Albani have even gone to the extent of justifying that ruling on Hijab supercedes that of Niqaab.
Keywords: Quran, Hijab, Veil, Scholars, Extremist, Reconcile, View-point
:احکام پر دہ (مردوں کے لئے)
:مردوں کو نیچی نگاہ رکھنے کے متعلق احادیث
سورت النور کے آغاز میں زنا کی ممانعت ہے اور زنا کا پہلا محرک اور سبب اجنبی عورتوں کو دیکھنا ہے اس لیے اس آیت میں مردوں کو اجنبی عورتوں کے دیکھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی الحسنؒ نے حسن بصری سے پوچھا کہ عجمی عورتیں اپنے سینوں اور سروں کو کھلار کھتی ہیں ؟ انہوں نے کہا تم اپنی آنکھوں کو ان سے دوررکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ مسلمان مردوں سے کہیےکہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں۔ (1)
حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر اپنے پیچھے حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہماکو بیٹھالیا۔ حضرت فضل بن عباس بہت خوب صورت تھے یہ دس ذو الحجہ کا دن تھا لوگ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے اور آپ جواب مرحمت فرما رہے تھے۔
قبیلہ خثعم کی ایک حسین عورت آئی وہ بھی آپ سے سوال کر رہی تھی حضرت فضل کو اس عورت کی خوبصورتی اچھی لگی وہ اس طرف دیکھنے لگےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر حضرت فضل کو اس عورت کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل کی ٹھوڑی اپنے ہاتھ سے پکڑی اور ان کا چہرہ اس عورت کی طرف سے دوسری جانب پھیر دیا۔ اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ معلوم کیا کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے اور اس کا باپ بہت بوڑھا ہے وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتا آیا وہ اس کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! (2)
حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو ، صحابہ کرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! راستوں میں بیٹھنے کے سوا تو ہمارا گزارا نہیں ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا راستوں میں بیٹھنا ضروری ہے تو پھر تم راستوں کا حق ادا کر و صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستوں کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا نظر نیچی رکھنا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا، سلام کا جواب دینا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا (3)
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کا زنا سے حصہ لکھا دیا ہے جس کو وہ لا محالہ پائے گا پس آنکھوں کا زنا دیکھناہے، اور زبان کا زنا بات کرتا ہے، نفس تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور اس کی شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (4)
حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیم نے فرمایا: جو مسلمان بھی کسی عورت کی طرف پہلی نظر ڈال کر نیچی کر لیتا ہے اللہ اس کے لئے ایسی عبادت پیدا کر دیتا ہے جس میں حلاوت ہوتی ہے (5)
حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہو جائو میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں جب تم میں سے کوئی شخص بات کرے تو جھوٹ نہ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرے اور جب امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کرے اور اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو(6)
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر آنکھ رو رہی ہو گی سوائے اس آنکھ کے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر جھک گئی اور سوائے اس آنکھ کے جو اللہ کی راہ میں بیدار رہی اور سوائے اس آنکھ کے جس سے اللہ کے خوف سے آنسو کا ایک ننھا سا قطرہ بھی ٹپک پڑا۔ (7)
:غیر محرم کی طرف نگاہ کرنا
حضرت بریدہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو فرمایا اے علی! یکے بعد دیگرے کسی غیر محرم کو نہ دیکھو کیونکہ پہلی نظر ( غیر ارادی) معاف ہے لیکن دوسری نظر نہیں (8)
حضرت جریر بن عبد اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے غیر محرم پر اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق آقا علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر کو پھیر لو (9)
حضرت ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرد، دوسرے مرد کی شرمگاہ نہ دیکھے اور کوئی عورت دوسری عورت کی شر مگاہ نہ دیکھے اور ایک مرد، دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ملے اور نہ ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں ملے (10)
:خواتین کے لئے احکام پر دہ
(وَقُلْ لِلْمُؤمِنٰتِ يَغْضُضْن من أبصار ھن ان سے جن کو دیکھنا جائز نہیں 11 (وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ) ان مقامات سے جو اس کیلئے حلال نہیں۔ بعض نے کہا۔ یحفظن فروجھن کا معنی ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو چھپا کے رکھیں تا کہ اس کو کوئی اور نہ دیکھے۔ (12)
مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں کہ حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم آگئے جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا ان سے پردہ کر لو ! ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ نابینا نہیں ہیں ؟ وہ تو ہمیں نہیں دیکھ رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم بھی نا بینا ہو؟ تم اسے نہیں دیکھ رہی ہو (13)
:مخلوط تعلیم میں نظر کی حفاظت
فحاشی پھیلانے والوں نے حقوق کے نام پر مسلمانوں کو ایسی عریانی کی طرف دھکیل دیا ہے کہ اس کے تصور سے بھی انسانیت شرما جاتی ہے ، آج کل مسلمان اسے گناہ ہی نہیں سمجھتا بلکہ ان کی اندھی تقلید کر کے اس پر فخر کرتا ہے، اب جبکہ عورتیں چار دیواری سے باہر د فاتر، کالجوں، اسکولوں اور سڑکوں پر آگئی ہیں تو مرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی نظروں کی پوری پوری حفاظت کرے۔
اگر اچانک کسی پر نظر پڑ جائے تو یہ معاف ہے البتہ دوبارہ قصد اً دیکھنا جائز نہیں۔ لیکن ایسے معاشرہ کی وجہ سے دنیوی فنون کو بالکل ترک کر دینا بھی صحیح نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایک طبقہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ امور دنیویہ میں بھی مہارت حاصل کرے۔
:خواتین کو سورہ یوسف کی تعلیم دینا
اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ چند موضوع روایات میں خواتین کو اس سورہ کی تعلیم دینے سے منع کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عزیر مصر کی بیوی اور مصر کی ہوس باز عورتوں سے مربوط آیات اگر چہ پورے عفت بیان کے ساتھ ہیں مگر ہو سکتا ہے بعض عورتوں کے لئے تحریک کا باعث ہوں اور اس کے بر عکس تاکید کی گئی ہے کہ عورتوں کو سورۃ نور کی تعلیم دی جائے کہ جس میں حجاب کے بارے آیات ہیں۔
لیکن ان روایات کی اسناد جن میں خواتین کو سورت یوسف کی تعلیم سے روکا گیا، ہر گز قابل اعتماد نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں اس سورہ میں غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لئے کوئی نقطہ ضعف موجود نہیں بلکہ عزیز مصر کی بیوی کا واقعہ ان سب کے لئے درس عبرت ہے کہ جو شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہوتی ہیں۔
:خواتین کا مزارات اور قبرستان جانا
ابتدائے اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا ً مردو عورت سب کو قبرستان جانے سے منع فرمایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها (14) میں نے (ابتداء) تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، مگر اب (میں اجازت دیتا ہوں کہ) وہاں جایا کرو۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: فانها تذکر کم الآخرۃ (۱۵) کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔ حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہ اجازت عام ہے، مردوں کے ساتھ بظاہر تخصیص کا کوئی قرینہ نہیں ہے مگر اس کے باوجود فقہائے کرام نے عورتوں کو قبرستان جانے سے اس لئے منع کیا ہے کہ کہیں وہ بے پردہ نہ ہو کر جائیں۔ غیر محرم مردوں کے سامنے نہ آئیں وہاں جا کر نوحہ خوانی نہ کریں۔ الغرض شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو اور دعاء ایصال ثواب تو گھر بیٹھ کر بھی کیا جا سکتا ہے مرد و عورت کا اختلاط کسی مقام پر بھی جائز نہیں ہے، حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب خواتین مسجد نیوی میں نماز با جماعت ادا کر تیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر اپنی جگہ ٹھہرے رہتے تا کہ خواتین اپنے گھروں کو چلی جائیں۔
:حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں
جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے بعد عورتیں کھڑی ہو جاتی تھیں اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر اپنی جگہ پر رُکے رہتے تھے ، زہری نے کہا اللہ زیادہ جانتا ہے ہمارا گمان یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے رکے رہتے تھے کہ عورتیں مردوں کے اختلاط سے پہلے گزر جائیں۔ (16)
فقہائے کرام نے شرعی احتیاط کے پیش نظر عورتوں کو قبرستان جانے اور مساجد میں آنے سے بھی منع کیا ہے لیکن آج کل دین کی طرف رغبت دلانے اور دینی مسائل سے آگہی کے لئے مساجد میں عورتوں کے لئے نماز جمعہ اور تراویح میں شرکت کی اجازت دینا ہمارے نزدیک دین کی حکمت کے مطابق ہے اور مستحسن ہے، بشر طیکہ وہ با پردہ ہوں ان کے آنے جانے کا راستہ جدا ہو، مردوں سے میل جول نہ ہو اور ان کی نماز کی جگہ میں پردے کا اہتمام ہو اور انہیں تاکید کی جائے کہ وہ ایسے چھوٹے بچوں کولے کر نہ آئیں جنہیں مسجد کے آداب کا شعور نہ ہو جو مسجد میں شور مچا کر لوگوں کی نماز میں خلل ڈالیں اور مسجد کو آلودہ کریں۔
انہی شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے معمر عورتوں کو اپنے کسی عزیز کی قبر پر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے جبکہ وہاں جا کر نوحہ خوانی اور ادب میں حد سے تجاوز نہ ہو، لیکن خواتین سے ایسی احتیاط کی توقع کم ہوتی ہے اس لئے احتیاط کے پیش نظر علماء عورتوں کو مطلقاً مزارات پر جانے سے منع فرماتے ہیں۔ (17)
عورت کا مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا:۔
ابتدائی دور میں خواتین کو مسجد میں آنے، نماز با جماعت ادا کرنے کی اجازت تھی ، اسی لئے حدیث پاک میں جماعت کی صفوں میں مرد اور عورت کی صف کے درمیان افضلیت اس طرح بیان فرمائی گئی ہے:۔
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز با جماعت میں اجر کے اعتبار سے) مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے اور بری صف آخری صف ہے (یعنی پہلی صف کی بہ نسبت اس کا اجر اور فضیلت کم ہے)۔ عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور بری صف پہلی صف ہے (یعنی وہ صف جو مردوں کی صف کے متصل ہے، کیونکہ اس میں نفس کے بر کا وے کا اندیشہ ہو سکتا ہے)۔ علامہ علائو الدین حصکفی صفوں کی ترتیب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛ ترجمہ : (جماعت میں ترتیب کے اعتبار سے) پہلے مردوں کی صف، پھر بچوں کی پھر خنثیٰ اور پھر عورتوں کی صفیں بنائی جائیں (18)
لیکن عہد فاروقی میں خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق نے فساد زمانہ کے سبب عورتوں کے مسجد آنے پر پابندی لگادی تھی۔
عمرہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عور توں کے اس بنائو سنگھار کو دیکھ لیتے جو انہوں نے اب ایجاد کیا تو ان کو مسجد میں آنے سے منع فرما دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔ میں نے عمرہ سے پو چھا: کیا ان کو منع کر دیا گیا تھا؟ فرمایا: ہاں۔ (19)
علامہ غلام رسول سعیدی (علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی 855ھ کے حوالے سے) لکھتے ہیں: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتیں جو انہوں نے ہمارے زمانے میں ایجاد کر لیا ہے اور اپنی زیبائش اور نمائش میں غیر شرعی طریقے اور مزموم بدعات نکال لی ہیں، تو یقیناً اپنے موقف میں اور شدت اختیارفرماتیں۔ (20)
اب اکثر عورتوں نے برقع لینا چھوڑ دیا ہے، سر کو دوپٹے سے نہیں ڈھا نپتیں، تنگ اور چست لباس پہنتی ہیں، بیوٹی پارلر میں جاکر جدید طریقوں سے میک اپ کراتی ہیں، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں میراتھن دوڑ میں حصہ لیتی ہیں۔ بسنت پر پتنگ اڑاتی ہیں ، ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں اس قسم کی آزاد منش عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو کوئی امکان نہیں ہے البتہ چند اللہ سے ڈرنے والی خواتین ضرور مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے یار مضان کے مہینے میں تراویح کی نماز پڑھنے جاتی ہیں، جہاں ان کی نماز کے لئے باپردہ جگہ بنائی جاتی ہے۔ سو جو خواتین پر دہ کی حدو دو قیود سے مسجدوں میں جائیں تاکہ وہ درس قرآن و حدیث ، وعظ اور نصیحت سن سکیں تو میری رائے ہے کہ ان کو منع نہیں کرنا چاہیے جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ کے ایک قول میں اس کی گنجائش بھی ہے۔ (21)
علامہ زین الدین بن شہاب الدین ابن رجب جنبلی متوفیٰ 795 ھ لکھتے ہیں مردوں کے ساتھ جماعت میں خواتین کے مسجد میں نماز پڑھنے کے مسئلہ میں فقہاء کا اختلاقہ رہا ہے، بعض فقہاء نے اس کو ہر حال میں مکر وہ کہا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی موقف ہے۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: میں اس زمانہ میں عورتوں کے نکلنے کو مکروہ کہتا ہوں کیونکہ وہ فتنہ اور آزمائش ہیں۔ امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ وہ عیدین کے سوا گھروں سے نہ نکلیں۔ بعض فقہاء نے بوڑھی عورتوں کو نکلنے کی اجازت دی ہے اور جوان عورتوں کو منع کیا ہے یہ امام مالک کا قول ہے اور ایک روایت کے مطابق امام شافعی امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول اور ہمارے اصحاب حنبلیہ کا بھی یہی قول ہے۔ (22)
بخاری و مسلم میں روایت ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں آنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرو۔
اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ حکم اس وقت کے لئے تھا جب عورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت تھی، عہد فاروقی سے اس کی ممانعت کر دی گئی کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا، اب فی زمانہ عورتوں کو باپردہ مسجدوں میں آنے اور علیحدہ بیٹھنے سے نہ روکا جائے۔ کیونکہ اب عورتیں سینمائوں، بازاروں میں جانے سے تو رکتی نہیں، مسجدوں میں آکر کچھ دین کے احکام سن لیں گی۔ عہد فاروقی میں عورتوں کو مطلقا ًگھر سے نکلنے کی ممانعت تھی۔ (23)
مرد ڈاکٹر سے عورت کا علاج کروانا:۔
برونائی دارالسلام ہے7۔1محرم 1414 ہجری مطابق21-27 جون ۱۹۹۳ ء میں منعقدہ آٹھویں اسلامی فقہی کا نفرنس کے متفقہ فیصلے کے مطابق اگر مریضہ کے طبی جیک اپ کے لیے سپیشلسٹ لیڈی ڈاکٹر موجود ہو تو اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ بذات خود چیک اپ کا فریضہ سرانجام دے اور اگر مسلمان لیڈی ڈاکٹر میسر نہ ہو تو غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر بھی اسے چیک کر سکتی ہے اور اگر غیر مسلم لیڈی ڈاکٹر میسر نہ ہو تو مسلمان ڈاکٹر یہ فریضہ سرانجام دے سکتا ہے اور اگر مسلمان ڈاکٹر میسر نہ ہو تو پھر غیر مسلم ڈاکٹر چیک اپ کا فریضہ سر انجام دے سکتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مرض کی تشخیص اور علاج کی غرض سے عورت کے بدن کے متاثرہ حصے کو ہی دیکھے اور حتی المقدور غض بصر سے کام لے اور پھر عورت کے علاج معالجے کا معاملہ، خلوت ِمحرمہ کے ارتکاب سے بچنے کے لئے خاوند یا محرم یا قابل اعتماد عورت کی موجودگی میں ہو۔ مزید بر آں فقہی کا نفرنس محکمہ صحت کے ذمہ داران کو تلقین کرتی ہے کہ وہ طبی علوم کے شعبوں میں عورتوں کی اسپیشلائزیشن کی حوصلہ افزائی کریں خصوصا ً تولید و وضع حمل جیسے نسوانی معاملات کے شعبے میں، اس بات کے پیش نظر کہ ان کے آپریشن کے لیے عورتیں بہت کم ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ استثنائی قاعدے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
لیڈی ڈاکٹر سے مرد کا علاج کرانا:۔
بعض متمسک بالدین حضرات خاتون ڈاکٹر سے اپنا علاج کروانے سے منع بھی کرتے ہیں جبکہ بعض کے طبائع نفسانی ہوتے ہیں اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے یاوہ سمجھتے ہیں کہ جب لیڈی ڈاکٹر موجود ہے تو اس سے چیک اپ کروانا جائز ہے اگر چہ ایمر جنسی کی صورت نہ بھی ہو۔ بعض ضعیف الایمان اور بے علم و عمل مریض بذات خود نرس یا لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔
اگر بالغ مریض مردوں کے لئے نرس یا لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا ممنوع قرار دے دیا جائے تو ان کے لئے اور ان کے بعد والوں کے لیے معاملہ آسان ہو جائے گا اور ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد کو ہر رورل ہیلتھ سنٹر اور شہری ہسپتالوں میں کھپایا جاسکے گا۔
اسلام میں خواتین کی فعالیت و ملازمت:۔
اسلام بوقت حاجت و ضرورت خواتین کے کام اور ملازمت کرنے سے انکار نہیں کر تا۔ عورت کی اہم ترین ذمہ داری تربیت اولاد اور خاندان کی حفاظت ہے۔ اگر بامر مجبوری ملازمت کرنی پڑ جائے تو شرط یہ ہے کہ یہ ملازمت اور فعالیت ، عورت کی معنوی اور انسانی کرامت و بزرگی اور قدر وقیمت سے منافات نہ رکھتے ہوں، کوئی اُس کی تذلیل و تحقیر کرے اور نہ جھکنے پر مجبور کرے۔ تکبر تمام انسانوں کیلئے مذموم اور بد ترین صفت ہے سوائے خواتین کے اور وہ بھی نامحرم مردوں کے مقابل ! عورت کو نامحرم مرد کے سامنے متکبر ہوناچاہتے۔ فلا تخضعن بالقول (24) عورت کو نا محرم مرد کے سامنے نرم و ملائم لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ یہ عورت کی عزت و عصمت کی حفاظت کیلئے لازم ہے۔ اسلام نے عورت کیلئے اسی کو پسند کیا ہے اور یہ ایک مسلمان عورت کیلئے مثالی نمونہ ہے۔
عورت کی ملازمت کی جائز صورتیں:۔
اسلامی تقاضوں کے مطابق با پر دہ اور محفوظ رہتے ہوئے باعزت طریقے سے عورتیں ملازمت کر سکتی ہیں مگر اس میں بھی چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
۔1 ملازم عورتیں، فاسق معلن مر د افسروں کے ماتحت نہ ہوں۔
۔2 عورتوں کے کام کے شعبے مردوں سے الگ ہوں۔
۔3 تنہائی میں مردوں کو عورتوں تک رسائی نہ دی جائے۔
درج بالا امور کا لحاظ رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مرد افسران ملازم خواتین کو غلط مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مرد افسران غریب عورتوں کو تنخواہوں میں اضافے، ملازمت میں ترقی اور اعلیٰ عہدوں کا لالچ دے کر ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔
ایسی اور اس جیسی برائیوں سے ممکنہ حد تک پاک شعبہ جات میں خواتین ملازمت کر سکتی ہیں۔
خاتون کا عزت بچانے کے لیے خود کشی کرنا:۔
خود کشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے اور اس کا مر تکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔
زندگی اور موت کا مالک حقیقی اللہ تعالی ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتار نا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اللہ تعالی کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشار بانی ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (25) اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبانِ احسان بنو، بے شک اللہ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے۔
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کر کے لکھا ہے:وقيل: أراد بہ قتل المسلم نفسهااور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خود کشی کرنا ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا:لا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ
اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ! (26)
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
}وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ{ يدل على النهى عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل. (27)
(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو) یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خود کشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔
درج بالا آیات اور ان کی تفاسیر سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں خود کشی قطعاً حرام ہے۔ اس لیے اگر کسی لڑکی پر خدا نخواستہ حملہ ہو اور اسے عزت کے لٹنے کا ڈر ہو تو لڑ کی اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کرے ، نہ کہ اپنی جان لے۔ کیوں کہ دوران جہاد بھی خود کشی کرنے والا جہنمی ہے، جس پر حدیث مبارکہ گواہ ہے۔ کسی غزوہ کے دوران میں مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خوب بہادری سے جنگ کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی شجاعت اور ہمت کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم نبوت سے انہیں آگاہ فرما دیا کہ وہ شخص دوزخی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ سن کر بہت حیران ہوئے۔ بالآخر جب اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کر لی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ خود کشی کرنے والا چاہے بظاہر کتناہی جری و بہادر اور مجاہد فی سبیل اللہ کیوں نہ ہو ، وہ ہر گز جنتی نہیں ہو سکتا۔ (28)
درج بالا حدیث میں آقا علیہ السلام نے واضح طور پر فرمادیا کہ مشکلات کا مقابلہ کرنا جنتیوں والا، اور مشکلات میں خود کشی کر لینا جہنمیوں کا کام ہے۔ اگر مذ کورہ لڑکی یا کوئی بھی فرد اپنی عزت، حرمت اور نظریات کے لیے مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ حضرت سعید بن زید سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جو اپنے مال کی حفاظت کرنے کے باعث قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہے۔ جو اپنی بیوی، اپنے خون اور اپنے دین کی حفاظت کرنے کے باعث قتل کر دیا جائے تو وہ شہید ہے۔ (29)
اگر کوئی فرد اپنے اہل خانہ ، اپنی جان اور دین کے تحفظ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹے، تو وہ شہید کہلائے گا، تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ عورت اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے مزاحمت میں ماری جائے، تو اس کو بھی مرتبہ شہادت نصیب ہو گا۔ یہ صرف ایسے لوگوں کے لئے جواب ہے جو ” اگر ہو جائے ” پر اصرار کرتے ہیں۔
:عورت کی امامت کا حکم
امام شافعی کے نزدیک عورت کا عورتوں کو نماز پڑھانا اور ان کا با جماعت نماز پڑھنا جائز ہے امام احمد کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں: ایک قول یہ ہے کہ عورتوں کی جماعت مستحب ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ غیر مستحب ہے امام مالک کے نزدیک عورتوں کا عورت کی اقتدا میں نماز پڑھنا نا جائز ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک عورت کا عورتوں کے لئے امام ہونا مکروہ تحریمی ہے ہر چند کہ امام احمد اور امام شافعی کے نزدیک عورت کا عورتوں کے لئے امام ہونا جائز ہے لیکن انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ عورتوں کا مردوں کے لئے امام ہو نانا جائز ہے اور مردوں کے لئے عورت کی امامت باطل ہونے پر ائمہ اربعہ کا اجماع ہے۔
عورت کی امامت کے بارے اصل یہ حدیث ہے:
عبد الرحمٰن بن خلاد سے روایت ہے : ام ورقہ بنت نوفل بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ بدر کے لئے تشریف لے جانے لگے تو میں نے ان سے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے ساتھ جہاد میں جانے کی اجازت عنایت فرمائیں، میں بیماروں کی تیمارداری کروں گی ، شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر میں سکون سے رہو، اللہ عزوجل آپ کو یقیناً شہادت عطا فرمائے گا عبد الرحمن بن خلاد کہتے ہیں کہ انہیں لوگ “شہیدہ” کہہ کر پکارتے تھے۔
عبدالرحمن کہتے ہیں: ام ورقہ بنت نوفل نے قرآن پڑھاہو اتھا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اپنے گھر میں ایک موذن رکھ لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔
اگلی حدیث میں عبد الرحمن بن خلاد بیان کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام ورقہ بن نوفل سے ملنے ان کے گھر جایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایک موذن مقرر کر دیا تھا اور انہیں حکم فرمایا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کریں ۔ عبد الرحمن بن خلاد بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ان کا موذن ایک بوڑھا شخص تھا (30)
امام بیہقی روایت کرتے ہیں: ” رائطہ حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرض نمازوں میں عورتوں کی امامت کی اور ان کے وسط میں کھڑی ہو ئیں”۔ عطاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اذان دیتی تھیں، اقامت کہتی تھیں اور عورتوں کی امامت کرتی تھیں اور ان کے وسط میں کھڑی ہوتی تھیں ” (31) اس طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی عورتوں کی امامت کی روایت بھی سنن کبریٰ میں موجود ہے اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عورت، عورتوں کی امامت کرے اور ان کے وسط میں کھڑی ہو۔
اس پر سب کا اجماع ہے کہ عورت مردوں کی امامت نہیں کر سکتی اور جمعہ کی امامت بھی نہیں کر سکتی۔ ہمارے ائمہ میں سے علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی صاحب ہدایہ نے عورت کی امامت کو مکروہ تحریمی کہا ہے اور علامہ کمال الدین بن ہمام صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی یا خلاف اولیٰ ہے۔ تاہم اگر کہیں کوئی عورت ، عورتوں کی امامت کرے تو وہ آگے نہ کھڑی ہو بلکہ عورتوں کی صف کے درمیان میں کھڑی ہو ۔ امام ابن ہمام کا عورتوں کے لئے عورت کی امامت کو مکروہ تنزیہی قرار دینے کا سبب وہ احادیث ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں، جن میں حضور علی پی ایم نے ام ورقہ کو امامت کی اجازت دی اور حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہمانے عورتوں کی امامت فرمائی۔
:بناؤ سنگھار کے جواز کی صورت
(وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ) اپنی زیب و زینت محرموں کے علاوہ کسی کیلئے ظاہر نہ کریں! اس زینت سے مراد پوشیدہ زینت ہے کیونکہ زینت کی دو قسمیں ہیں۔ زینت مخفی اور زینت ظاہر ہی۔ زینت مخفی جیسا کہ پازیب ، پائوں کی مہندی ،ہاتھوں کے کنگن ، بالیاں ،ہار وغیرہ ان چیزوں کا ظاہر کرنا جائز ہے اور نہ ہی اجنبی آدمی کیلئے ان کی طرف دیکھنا جائز ہے۔ زینت سے مراد زینت کی جگہیں ہیں۔ (الا ماظھر منھا) اس سے مراد زینت ظاہرہ ہے ۔ اہل علم نے اس ظاہری زینت میں اختلاف کیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ فرمایا ہے۔ سعید بن جبیر اور ضحاک کہتے ہیں اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں ابن مسعودؓ فرماتے ہیں اس سے مراد لباس ہے اس پر دلیل اللہ تعالی کا فرمان: خذوا زينتكم عند کل مسجد (32) ہے۔
یہاں پر بھی زینت سے مراد لباس ہے۔ حسن فرماتے ہیں اس سے مراد چہرہ اور کپڑے ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں۔ سرمہ انگوٹھی اور ہاتھوں پر مہندی مراد ہے (33)
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ” اور آپ مومن عورتوں سے فرمادیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے (34)
معلوم ہو اعورت کی زیب و زینت ، میک اپ بناؤ سنگھار سارا کا سارا صرف شوہر کے لئے ہے۔ اس عورت پر دوزخ کا عذاب ہو گا جو گھر شوہر کے دکھانے کے لئے کپڑے ہی نہ بدلے وہی پرانے میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ پھرتی رہے کہ میں کچن میں مصروف ہوں اور جب باہر جانے کا وقت آئے خواہ شادی بیاہ، شاپنگ، کسی کے گھر جانا ہو یا کوئی کلچر فنکشن ہو تو پھر نہائے دھوئے ، شاندار کپڑے بھی پہنے، خوشبو بھی لگائے اور میک اپ کرے اس انداز کے ساتھ جائے کہ فاصلے سے بھی خوشبو آئے۔ اب وہ کس کے لئے بناؤ سنگھار کر کے جارہی ہے ؟ جس کے لئے اللہ نے حلال کیا تھا اس کو تو سب کچھ دکھایا نہیں۔ زیب وزینت، بناؤ سنگھار ، کپڑے، فیشن سب کچھ جائز ہے مگر گھر میں اپنے شوہر کے لئے جب عورت یہ سب اپنے خاوند کے لئے نہ کرے اور گھر سے باہر نکلتے وقت لوگوں کو دکھانے کے لئے کرے تو یہ حرام ہے۔
پلکوں، ابرووں کا بنوانا، کٹوانا، مجید وانا اور اکھاڑ نا:۔
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت نے حاضر ہو کر عرض کیا یارسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری لڑکی دلہن بنی ہے اور اسے چیچک نکل آئی ہے جس کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں۔ کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال ملا کر پیوند کر دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بال جوڑنے اور بال جڑوانے والی پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے ۔ (35)
کسی کا اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے کے بالوں کو ملانا ( پیوند کرنا ) حرام ہے خواہ وہ اسی عورت کے بال ہوں یا کسی اور کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ تعالی نے بال ملانے والی، ملوانے والی، گودنے والی، گدوانے والی ، دانتوں کو مصنوعی طریقے سے تیز کرنے والی اور کروانے والی اور بال نوچنے والی اور نچھانے والی پر لعنت فرمائی ہے (36)
:علامہ غلام رسول سعیدی کہتے ہیں
لیکن آج کل چونکہ شعبہ طب نے کافی ترقی کرلی ہے اور آدمی کے اپنے بالوں کو طبی عمل سے سر پر اُگایا جاتا ہے جسے ہیئر پلانٹیشن (Hair Plantaion) کہتے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک یہ عمل جائز ہے کیونکہ ہمارے فقہاء نے عورت کے لئے اپنے گیسوئوں کے ساتھ (حلال) جانور کے بال جوڑنے کی اجازت دی ہے اور انہوں نے حدیث پاک میں بال جوڑنے کی ممانعت کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ
دوسرے انسانوں کے بالوں سے فائدہ اٹھایا جائے”۔ (37)
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں
اس میں کوئی حرج نہیں کہ عورت اپنے گیسوئوں کے ساتھ (حلال) جانور کے بال جوڑے۔ جب حلال جانور کے بال یارُ واں جوڑا جا سکتا ہے تو پاک چیز سے بنے ہوئے مصنوعی بال بھی جوڑے جاسکتے ہیں۔
اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: حدیث پاک میں بال نوچنے کی ممانعت شاید اس بات پر محمول ہے کہ کوئی عورت اجنبی مردوں کے سامنے اپنے آپ کو دلکش بنا کر آئے، لیکن اگر عورت کے چہرے پر اس طرح کے بال ہیں کہ جس سے اس کے شوہر کو نفرت پیدا ہوتی ہے تو اس صورت میں بال نوچنے ( یا کسی پاک کیمیکل، پائوڈر یا کریم سے صاف کرنے) کو حرام قرار دینا (حکمت دین اور فطرت سے ) بعید بات ہے، کیونکہ خواتین کو تزئین کی ضرورت ہوتی ہے”۔ (38)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ پلکیں اور ابر وبنوانے کو راوج نہیں دینا چاہیے، جو کہ آج کل بہت عام ہوتا جارہا ہے۔ اس کو ایک فیشن بنادیا گیا ہے۔ ضرورت ہو یا نہ ہو اکثر عورتیں اس فیشن کو اپنار ہی ہیں۔ جس کے لیے انہیں بیوٹی پارلرز کا رخ بھی کرنا پڑتا ہے، جو ایک تکلیف دہ عمل اور فضول خرچی کا ایک نیا راستہ بھی ہے۔ اس لیے اگر پلکوں یا ابروؤں کے بال بدصورتی کا سبب نہ ہوں، تو ان کو کٹوانا، چھیدوانا یا اکھاڑنا بالکل جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ بال کسی کے چہرے کی بد صورتی کا سبب بن رہے ہوں، تو اس کو اجازت ہے کہ وہ ان اضافی بالوں کو مناسب طریقے سے ختم کر دے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: “لا بأس بأخذ الحاجبين و شعر وجهه مالم يشبه بالمخنث (39)
یعنی ابر و اور چہرے کے بال اکھاڑنے میں کوئی حرج نہیں، جب تک کہ ہیجڑوں سے مشابہت نہ ہو ۔
کس طرح کاعبایا اوربرقعہ پہنا جائے :۔
عورت کے لئے چہرہ، ہاتھ ، اور پاؤں کے علاوہ سارا جسم چھپانا لازمی ہے۔ اب وہ کس طرح چھپایا جائے اس کے لیے کوئی مخصوص لباس نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ پوری دنیا کے کونے کونے میں قیامت تک قائم رہنے والا ہے، اس لیے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی کہ فلاں کپڑا اور فلاں ڈیزائن ہی پہننا ضروری ہے۔
:پوشیدہ زینت ظاہر کرنے کا حکم
جب فتنے اور شہوت کا خوف نہ ہو تو بوقت حاجت و ضرورت عورت کی ظاہری زینت کی طرف دیکھنا جائز ہے اور اگر شہوت کا خوف ہو تو نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے۔ اتنی مقدار میں عورت کو رخصت دی گئی ہے کہ یہ چیزیں عورت اپنے بدن سے ظاہر کر سکتی ہے۔ ان چیزوں کو نماز میں چھپانے کا حکم بھی نہیں ہے۔ ان اعضاء کے علاوہ عورت کا سارا بدن عورت ہے اور اس کا چھپانا فرض ہے ۔ ( وَلْيَضْرِ بْنَ بِخُمُرِهِنَّ ) چاہیے کہ اپنے دوپٹوں کو (علی جیو بھن) اپنے سینوں پر ڈال لیں تاکہ اس کے ساتھ ان کے بال سینہ ، گردن اور بالیاں چھپ جائیں۔ جب ولیضربن بخمر ھن علی جیو بہن کا حکم نازل ہوا تو انہوں نے اپنی چادریں پھاڑیں اور ان کو اوڑھنیاں بنالیا ( وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ) یعنی جو مخفی زینت ہے اس کا ظاہر کرنانماز میں جائز ہے اور نا ہی غیر محرم کے سامنے۔ چہرے، پائوں اور ہتھیلیوں کے علاوہ باقی سب پوشیدہ زینت ہے۔
(إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ) ابن عباس اور مقاتل فرماتے ہیں اپنی چادر اور اوڑھنیاں صرف اپنے خاوند کے لئے اتار سکتی ہیں (40)
مرد اور عورت کا شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا:۔
فرمان الٰہی ہے : فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ۔ (41) اپنی پسند کی عورتوں سے نکاح کرو۔ یہ پسند دو طرفہ ہو گی، لڑکے کی طرف سے بھی اور لڑکی کی طرف سے بھی، کسی پر اس کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا اللہ تبارک و تعالی نے ایک اور مقام پر شادی کا مقصد بیان فرمایا
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةٌ (42)
اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔
:اس ضمن میں چند احادیث درج ذیل ہیں
”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو پیغام نکاح دے اگر اس کی ان خوبیوں کو دیکھ سکتا ہو جو اسے نکاح پر مائل کریں، تو ضرور ایسا کرے۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا اور چھپ کر اسے دیکھ لیا یہاں تک کہ میں نے اس کی وہ خوبی بھی دیکھی جس نے مجھے نکاح کی جانب راغب کیا لہٰذا میں نے اس کے ساتھ نکاح کر لیا“۔ (43)
مذکورہ بالا تصریح کی روشنی میں لڑکے اور لڑکی کی پسند کا خیال رکھنا والدین پر لازم ہے ان کی مرضی کے خلاف شادی مسلط نہیں کی جانی چاہئے۔ اسلام کی رو سے لڑکے کے لیے لڑکی کو دیکھنا اور لڑکی کے لیے لڑکے کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ اگر دیکھ کر جاننے کی کوشش کریں گے تو پھر حدود عبور ہوتی ہیں۔ جہاں Limit Cross ہونے کا ڈر ہو، وہاں سے بچنا بہتری ہے۔ شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا بھالنا مغربی دنیا سے زیادہ تو کوئی نہیں کرتا۔ شادی سے پہلے وہ سال دو سال دوست رہتے ہیں۔ جب ایک دوسرے کو اچھی طرح دیکھ اور سمجھ لیتے ہیں، تو پھر شادی کرتے ہیں۔ اس کے باوجو د سب سے زیادہ طلاقیں اور علیحد گیاں مغربی دنیا میں ہی ہوتی ہیں۔
ہمارے ہاں دو طبقے ہیں، ایک والدین کا ہے جو لڑکے لڑکی کی رائے لینا پسند ہی نہیں کرتا۔ دوسری طرف اولاد کا ایک ایسا طبقہ ہے جو والدین کی رائے لینا پسند نہیں کرتا۔ وہ شادی سے پہلے ہی کبھی شاپنگ کے لیے جارہے ہیں اور کبھی سیر و تفریح کے لیے کئی کئی دن رات گھر سے غائب رہتے ہیں۔ والدین کو پوچھنے کی جرات تک نہیں۔ لیکن یہ دونوں انتہائیں ہیں، اسلام ان دونوں کو پسند نہیں کرتا۔ آسان اور بہترین حل یہ ہے کہ دونوں خاندان ایک دوسرے کو کھانے پر مدعو کریں، اس طرح لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو دیکھ بھی لیں گے اور کوئی خرابی بھی پیدا نہیں ہو گی۔
عورت کا عورت سے پردے کا اطلاق:۔
اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ (44) ان تمام کیلئے عورت کے باطنی زینت کی طرف نظر کرنا جائز ہے لیکن وہ حصہ جو ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے اسکی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ خاوند کیلئے بیوی کے سارے بدن کو شر مگاہ کے علاوہ دیکھنا جائز ہے کہ خاوند کیلئے اسکی طرف دیکھنا مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔
( اَو نساء ھن ) عورت کیلئے دوسری عورت کے ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصہ کے علاوہ اس کے باقی بدن کی طرف دیکھنا( بضرورت) جائز ہے جیسا کہ محرم مرد کا حکم ہے یہ اس وقت جائز ہے جب عورت مسلمان ہو۔ لیکن اگر غیر مسلم عورت ہو تو اس کے آگے مسلمان عورت کا اپنا بدن ظاہر کرنا جائز ہے یا نہیں اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ جس طرح مسلمان عورت کے سامنے مسلمان عورت کا اپنا بدن ظاہر کرنا جائز ہے اسی طرح غیر مسلمہ کے آگے بھی اپنا بدن ظاہر کرنا جائز ہے کیونکہ وہ بھی عورت ہے۔ جبکہ دیگر علماء نے فرمایا کہ مسلمان عورت کیلئے اپنا بدن کافرہ کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اونسا ءھن اور کافرہ ہماری عورتوں میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ دین میں اجنبیہ ہے لہٰذا یہ اجنبی عورت سے بھی دور ہو گی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو خط لکھا کہ اہل کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمام میں داخل ہونے سے منع کیا جائے (45)
( أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانهن ) علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے بعض نے کہا کہ غلام عورت کے لئے محرم ہے لہٰذا اگر غلام نیک ہو تو وہ عورت کے پاس آسکتا ہے اور محارم کی طرح ناف سے لے کر گھٹنوں کے علاوہ اس کے باقی بدن کی طرف نظر بھی کر سکتا ہے قرآن پاک کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے یہی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس غلام کے ساتھ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہبہ کیا تھا حضرت فاطمہ کے اوپر ایک کپڑا تھا جب آپ اسے سر پر ڈالتیں تو پائوں نہیں ڈھانپے جاتے تھے جب آپ پائوں ڈھا نپتیں تو سر نہیں ڈھانپا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا اسے فاطمہ اتنے اہتمام کی ضرورت نہیں ہے تیرا غلام اور تیرے والد تیرے پاس آئے ہیں۔(46)
بعض علماء نے فرمایا غلام عورت کیلئے اجنبی کی طرح ہے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب ہے فرماتے ہیں کہ او ماملکت ایما نھن سے مراد لونڈیاں ہیں غلام نہیں ہیں۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ اونسائھن او ما ملکت ایما نھن کا معنی ہے کہ کسی مسلمان عورت کیلئے جائز نہیں کہ وہ مشرکہ عورت کے سامنے لباس اتارے لیکن جب مشرکہ لونڈی ہو تو اسکے سامنے زینت ظاہر کرنا جائز ہے۔
:ہیجڑوںاور نامردوں سے پردے کا حکم
( أو التبعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ) اربۃ اور ارب کا معنی حاجت ،خواہش ہے ، اوالتابعین غیر اولی الاربۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جو قوم کی اتباع کرتے ہیں تا کہ قوم کا بچا کھچا مال انہیں مل جائے ان کا مقصود صرف یہی چیز ہو اور عورتوں کی خواہش بھی نہ رکھتے ہوں ۔ مجاہد، عکر مہ اور شعبی کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد عنین (نامرد) احمق ہے۔ حسن فرماتے ہیں اوالتابعین سے مراد ایسے مرد ہیں جن کا ذکر منتشر نہ ہو تا ہو ، وہ جماع پر قادر ہوں اور نہ ہی عورتوں کی خواہش رکھتے ہوں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس سے مراد نیم پاگل ہے۔ عکرمہ نے اس سے مراد مجبوب (ذکر کٹا ہوا) لیا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں اس سے مراد مخنث ہے ۔ مقا قتل کا کہنا ہے کہ اس سے مراد بوڑھا، نامرد، خصی اور ذکر کٹا ہوا شخص ہے (47)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک ہیجڑا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا تھا اور وہ اس کو غیر اولی الاربہ میں شمار کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے وہ ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ کے پاس بیٹھا ہوا ایک عورت کے متعلق باتیں کر رہا تھا کہ وہ عورت جب آتی ہے تو چار کے ساتھ آتی ہے اور جب لوٹتی ہے تو آٹھ کے ساتھ لوٹتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ان باتوں کو پہچانتا ہے یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آئے! پھر ازواج مطہرات نے اس سے پردہ کرناشروع کر دیا (48)
عورت کا غیر محرم کے ساتھ مشترکہ خاندان میں رہنا:۔
ہمارے ہاں مشتر کہ خاندانی نظام میں جہاں بہت سی خوبیاں ہیں وہاں ایک خامی یہ ہے کہ شرعی حجاب، غیر محرم مرد سے اجتناب اور دونوں کے مابین خلوت سے کامل اجتناب کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے ، بشری کمزوریوں کے تحت بعض اوقات اس صورتِ حال سے مفاسد جنم لیتے ہیں شرعی احتیاط کا تقاضا تو یہ ہے کہ حقیقی بھائی ( جسے عینی بھی کہا جاتا ہے) کی بیوی بھی اگر اپنے دیور یا جیٹھ کے ساتھ بعض مجبوریوں کے تحت ایک ہی مکان میں رہ رہی ہو ، جسے عربی میں دار یا ہمارے ہاں عرف میں حویلی کہتے ہیں، اس میں اس خاتون کا یونٹ یا حجرہ الگ ہونا چاہیے ، جس میں غیر محرم لوگوں کے بے تکلف آنے جانے پر پابندی ہو اور گھریلو کام کاج اور ضروریات کے لئے جب وہ خاتون اپنے ” بیت سکنیٰ ” یا حجرے سے باہر آئے تو ستر و حجاب کے شرعی حکم کا مکمل اہتمام کرے، ضرورت کی حد تک بات کرے بے تکلف میل جول، خوش گپیاں اور آمنے سامنے آنے سے اجتناب کرے۔
(49) (وَتُوبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا) اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی میں جو کوتاہی واقع ہوئی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں تو بوا الی اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اس سورۃ پاک میں جو آداب معاشرات سکھائے گئے ہیں انکی اطاعت کرو!
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا: اے لوگو! اپنے رب کی بارگاہ میں تو بہ کرو میں ہر روز اپنے رب کی بارگاہ میں سو مر تبہ تو بہ کرتا ہوں (50)
خلاصہ بحث
مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ پر گہری نظر رکھنے والے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اللہ پاک نے جن برائیوں میں مبتلا ہونے سے لوگوں کو شدت کے ساتھ روکا اور ان کی مذمت کی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ان احکام کو پر دے کے احکام کہا جاتا ہے۔ یہ نام ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا دیا ہوا نہیں ہے۔ عنوان قائم کر کے احکام بیان کرنا قرآن کریم کا طریقہ نہیں۔ تفہیم مدعا کے لیے اہل علم یہ طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم ان احکام کو پردے کا حکم ” کے عنوان سے بیان کرنے کے نتیجے میں ایک ایسی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے جو بڑے فساد کا سبب بن رہی ہے۔
پردے کے لفظ سے جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان احکام کا تعلق صرف خواتین سے ہے۔ بلاشبہ ان احکام میں خواتین کو مخاطب کر کے کئی ہدایات دی گئی ہیں، مگر قرآن مجید بالکل واضح ہے کہ یہ احکام خواتین کے ساتھ حضرات کو بھی دیے گئے ہیں۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں پر دے کے حوالے سے ہمیشہ خواتین زیر بحث آتی ہیں۔ کبھی مردوں کو مخاطب کر کے انہیں احکام پر دہ کی تلقین نہیں کی جاتی۔ آج کے معروضی حالات میں اس مطالبے کو مردوں کے سامنے لانے اور اس پر عمل کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ان حالات میں مردوں کی یہ عادت کہ وہ نگاہیں جھکا کر نہیں رکھتے بیشتر فساد کا سبب بن رہی ہے۔ ایسے میں مردوں کو یہ بتانا لازم ہے کہ ” پر دے ” کے احکام کا پہلا حکم انہیں دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مرد اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں۔ وہ کسی عریاں یا نیم عریاں خاتون، غیر شائستہ منظر، جنسی جذبات بھڑ کا دینے والے نظارے کو دیکھ کر لطف اندوز ہونے سے بچیں۔ حقیقت یہ ہے زنا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مردوں کی جھکی ہوئی نگاہیں ہیں۔ جب تک یہ نگاہیں اٹھی رہیں گی کسی قسم کا کوئی پر دو معاشرے سے زنا اور فحاشی ختم نہیں کر سکتا۔
حوالہ جات و حواشی
- النور: 30
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، کتاب الاستئذ ان ، بیروت: دار صادر ،رقم: 6228
- ايضاً،رقم: 6229
- – ايضاً، باب زنا الجوراح دون الفرج، رقم: 6228
- بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین، شعب الایمان، بیروت: مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ،در قم 5431
- طبرانی، سلیمان بن احمد، معجم کبیر ، بیروت: دار احیاء التراث العربی, ر قم :8018
- دیلمی، ابو شجاع شیر وہ بن شہر دار، الفردوس بماثور الخطاب، بیروت: دار الکتب العلمیہ ،ر قم 4759
- ابو دائود، سلیمان بن اشعث سجستانی، سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب مایو مر بہ من غض البصر، رقم 2149، بیروت: دار الفکر
- ایضاً، کتاب النکاح باب مایو مر بہ من غض البصر، رقم : 2148
- ترمذی، محمد بن عیسیٰ ، سنن ترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی کراہیۃ مباشرۃ الرجل والمرءۃ ، ریاض: دار السلام لنشر والتوزیع، ر قم : 2793
- بغوی، حسین بن مسعود، تفسیر معالم التنزیل، محمد عبد الله النمر (محقق) بیروت: دار احیاء التراث 1405ء
- النور: ۳۱
- سنن ابی داود، کتاب اللباس ،باب فی قول عزو جل ( وقل للمومنت يغضضن من ابصار ھن) رقم : 4112
- مسلم، مسلم بن حجاج قشیری، صحیح مسلم، ریاض: دار السلام لنشر والتوزلی، رقم :2258
- ایضاً، رقم: 2257
- صحیح بخاری ، رقم: 870
- منیب الرحمٰن، مفتی، تفہیم المسائل، لاہور: ضیاءالقرآن پبلی کیشنز، ج 6، ص176
- رد المختار علی الدرالمختار، ج 2، ص270
- صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب انتظار الناس قیام الامام العالم، رقم: 869
- عینی، بدرالدین محمود بن احمد عمدۃالقاری، مصر: مطبوعہ ادارہ الطباعۃالمنیر، ج6، ص227
- البقرۃ،: 195
- النساء،: 29
- سعیدی، غلا، رسول، نعمۃالباری، لاہور: فرید بک سٹال، ج2، ص798
- رازی، فخرالدین، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، 57:10، لاہور مکتبہ علوم الاسلامیہ
- فتح الباری لابن رجب، ریاض: دار ابن الجوزیہ، ج5، ص1309
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، رقم: 3970
- تفہیم المسائل، لاہور: ضیاءالقرآن پبلیکیشنز، ج5، ص100
- احمد بن حنبل، المسند، رقم: 1652، مصر، مؤسسۃ قرطبۃ
- الاحزاب: 32
- سنن ابی داؤد، رقم:592-93
- بیہقی، احمد بن حسین خراسانی، سنن کبریٰ للبیہقی، ملتان: نشر السنہ، ج 3، ص:131
- الاعراف: 31
- ابن عادل، ابو حفص عمر بن علی، اللباب فی علوم الکتاب، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ج13، ص456
- النور، 24:31
- صحیح مسلم، رقم: 5458، بیروت: دار الکتب العلمیہ
- شامی، ابن عابدین ، سید محمد امین، رد المختار علی الدرالمختار، جلد9، ص 454، بیروت: دار احیاء التراث العربی
- سعیدی، غلام رسول، علامہ، شرح صحیح مسلم، لاہور: فرید بک سٹال، ج 6، ص481 تا 487
- ایضاً ، جلد 9، ص 455
- ملا شیخ نظام، فتاویٰ عالمگیری، بیروت: دار صادر، ج5، ص358
- النور: 31
- الباب فی علوم الکتاب، ج14، ص357
- النساء: 4
- الروم،: 21
- ابو داؤد، رقم: 2082
- الکشف والبیان، ج 7، ص88
- مسند احمد 4:246، رقم: 18179، نسائی ، رقم: 1865، بیروت: دار الکتب العلمیہ
- الکشف والبیان، ج 7، ص88
- سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی قولہ، غیر اولی الاربۃ، رقم: 4107
- النور: 31
- صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب: استجاب الاستغفار والاستکثار منہ، رقم: 2702